25 مارچ 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ دنیا اور خاص طور سے افغانستان کی بنیادی مشکل نیٹو کی توسیع پسندی ہے۔

ابنا: صدر جناب احمدی نژاد نے آج تاجیکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں افغانستان کے بارے میں اجلاس کی افتتاحیہ تقریب میں کہا کہ ساری دنیا اور خاص طور سے افغانستان کی بنیادی مشکل نیٹو کی توسیع پسندی ہے اور جب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا دنیا اور علاقے میں بنیادی مسائل کو حل کرنا بہت دشوار ہوگا۔ صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ یہ اجلاس افغانستان کی معیشت کی حمایت کا پانچواں اجلاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ افغانستان کی مدد کریں۔

صدر احمدی نژاد نے کہا کہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ افغان قوم کےمسائل اور رنج و الم کے کیا اسباب ہیں اور آخر کیوں ملت افغان خود اپنے گھر ہی میں قتل عام اور بے گھر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کی صورتحال انتظام عالم کا نتیجہ ہے اور اس سوال کے جواب سےکہ افغانستان کے بحران کے اسباب کیا ہیں نہ صرف افغانستان بلکہ دیگر ملکوں کے مسائل بھی حل ہوجائيں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کے رکن ممالک منجملہ امریکہ کی یہ خواہش ہے کہ دنیا پر تسلط قائم کیا جائے اورآج کی دنیا کے مسائل کا بنیادی سبب یہی ہے ۔

انہوں نے کہا نیٹو کے ممالک آج کھلم کھلا مشرق پر حملے کرنے اور دہشتگردی سے مقابلے کے بہانے چین و ہندوستان اور روس کے مقابل صف آرائي کرنے کے لئے پرتول رہے ہیں۔ صدر احمدی نژاد نے گيارہ ستمبر کے بہانے افغانستان پر امریکہ کے حملوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے دس برسوں تک افغانستان پر قبضہ جمائے رکھنے کے باوجود اور اس شخص کو جس کےبارے میں وہ دعوے کرتا ہے کہ اس نے گيارہ ستمبر کے حملے کئے تھے اور اسے گرفتار کرنے اور قتل کرنے کےبعد نیز اس کے جنازے کو سمندر میں پھینکنے کے بعد بھی افغانستان، پاکستان اور علاقے میں اپنی مداخلت کم نہیں کی بلکہ امریکہ کی مداخلتوں اور بدامنی میں اضافہ ہی ہوتا گيا۔ افغانستان کی معیشت کی حمایت کے زیر عنوان اجلاس آج تاجیکستان کے درالحکومت دوشنبہ میں شروع ہوا ہے اس اجلاس میں افغانستان پاکستان تاجیکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سربراہاں اور چالیس ملکوں کے وزاء خارجہ نیز تینتیس عالمی اداروں کے نمائندے شرکت کررہے ہیں۔  ........

/169